خلیل ایک منفرد شخصیت کا مالک خوبرو نوجوان، جس کی صلاحیتوں پر کسی کو شک نہیں، مگراپنی اس خامی کہ کسی کام سے جلدی اُکتا جانا، تیس سال کا ہو جانے کے باوجود بھی زندگی کی حقیقی کامیابیوں سے کہیں دور تھا۔ تعلیمی میدان میں ایک کو چھوڑکر دوسرے علم کے پیچھے بھاگتا رہا اور اب ملازمتوں کا بھی یہی حال کہ کہیں ٹک کر کام نہیں کر پا رہا تھا۔ شادی کے نام سے اُس کا بدکنا محض اسی بناء پر تھا کہ وہ ابھی تک کسی ملازمت کو مستقل اپنانے کیلئے خود کو ذہنی طور پر تیار ہی نہیں کر پا رہا تھا۔
خلیل کے ماں باپ اپنے بیٹے کی اس چلبلی طبیعت سے خوب واقف ہر وقت اُس کیلئے پریشان رہتے تھے۔ ایک دن اُس کے باپ نے اُسے صبح صبح فون کیا کہ آج ہم تیرے شہر میں آ رہے ہیں اور وہاں کے مشہور ریستوران میں تین بجے اکھٹے دوپہر کا کھانا کھائیں گے۔
خلیل اس شہر میں پچھلے چند ماہ سے رہ رہا تھا، اس دوران اُس کی والدین سے ملاقات بھی نہیں ہوئی تھی۔ والدین سے ملنے کی خوشی میں وقت سے پہلے ہی مطلوبہ ریستوران چلا گیا اور باہر کا منظر خوبصورت دکھائی دینے والی ایک میز پر براجمان ہو گیا۔ بیرے کو اُس نے بتا دیا کہ وہ اپنے والدین کا انتظار کر رہا ہے اور اُن کے آنے پر کھانا طلب کرے گا۔
تین بجے خلیل نے اپنے والد کو فون کر کے پوچھا کہ آپ ابھی تک پہنچے نہیں تو اُس نے جواب دیا وہ راستے میں ہیں اور ابھی پہنچا ہی چاہتے ہیں۔
ساڑھے تین بجے ایک بار پھر خلیل نے فون کر کے والد سے تصدیق کی کہ وہ راستے میں ہی ہیں ناں؟
چار بجے خلیل نے ایک بار پھر اپنے والد کو فون کر کے خیریت پوچھی تو اُس نے کہا؛ میں نے کہہ دیا ہے ناں کہ میں اور تیری ماں ہم دونوں راستے میں ہیں اور آ ہی رہے ہیں۔
انتظار کی کوفت میں مبتلا خلیل نے پانچ بجے باپ کی بجائے اپنی ماں کو فون کرکے پوچھا تاکہ صحیح صورتحال کی سمجھ آئے مگر اُس کی ماں نے بھی وہی جواب دیا جو اُس کے باپ نے دیا تھا کہ ہم راستے میں ہیں اور بس پہنچا ہی چاہتے ہیں۔
انتظار کی کوفت اور اذیت میں مبتلا خلیل کی حالت دیدنی تھی۔ ناں وہ ریستوران چھوڑ کر کہیں جا سکتا تھا اور ناں ہی فون پر چیخ چلا کر اپنی کوفت کا اظہار کر سکتا تھا، کیونکہ یہ کوئی اور نہیں اُس کے ماں باپ تھے۔ اپنی طبیعت کے برعکس زہر کا کڑوا گھونٹ بھرے وہیں مرتا کیا کرتا کے مصداق بیٹھا انتظار کرتا رہا۔
اسی طرح چھ بجے تو اُس کے ماں باپ ریستوران میں داخل ہوتے دکھائی دیئے۔ خلیل نے اپنی ناگواری کو دبائے سرد مزاجی سے کھڑے ہو کر ماں باپ سے سلام دُعا لی اور چھوٹتے ہی پوچھا؛ کیا ہوگیا تھا آپ لوگوں کے ساتھ؟ کیوں اتنی دیر لگا دی؟
اُس کے باپ نے نہایت دھیمے سے لہجے میں کہا تیری وجہ سےہمیں یہ ساری دیر ہوئی ہے۔
میری وجہ سے؟ خلیل نے اپنی حیرت کو دباتے ہوئے باپ سے پوچھا۔
باپ نے پھر سے دھیمے لہجے میں خلیل کو اپنا وہی جواب دیا ہاں تیری وجہ سے دیر ہوئی ہے یہ ساری۔
اس بار خلیل کی ماں نے دخل اندازی کرتے ہوئے کہا؛ چلو بیٹا کیا ہو گیا اب، آخر ہم پہنچ ہی گئے ہیں ناں۔ ہو سکتا ہے تم نے کوئی اچھا سبق ہی سیکھا ہو آج کی اس ملاقات سے۔
خلیل نے پوچھا امی جی، اس کوفت سے جو میں نے اُٹھائی ہے بھلا کونسا اچھا سبق نکلتا ہے مجھے بھی تو بتا ئیے؟
خلیل کے والد نے کہا؛ بیٹے تم چاہتے ہوئے بھی آج ریستوران کو چھوڑ کر نا جا سکے کیونکہ تم جن لوگوں کے انتظار میں یہاں بیٹھے رہے وہ کوئی اور نہیں تمہارے والدین تھے۔، تم بار بار اپنی جھنجھلاہٹ کو دبا کر ہمیں فون کرتے رہے، چاہنے کے باوجود بھی اپنی آواز کو اونچا نا کر سکے کہ سامنے کوئی اور نہیں تمہارے والدین تھے۔ اگر تمہارا آج کا مقصد یہاں بیٹھ کر اپنے پیارے والدین سے ملاقات کرنا تھی اور اُن کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے کی سعادت حاصل کرنا تھی تو تمہیں انتظار کی کوفت تو اُٹھانا پڑی مگر تم اپنے مقصد میں کامیاب رہے ہو۔
خلیل جو ابھی تک اپنے غصے اُکتاہٹ اور جھنجھلاہٹ کو دبائے ہوئے تھا اس بات کا مطلب نا سمجھ سکا اور پوچھ ہی لیا کہ ابا جی مجھے آپ کی بات کچھ سمجھ نہیں آئی۔
خلیل کے والد پھر گویا ہوئے؛ بیٹے تمہارے اندر زندگی کے ہر شعبہ میں کامیاب ہونے کی پوری صلاحیتیں ہیں، مگر ہر کوشش کے نتائج بر آنے تک صبر کے ساتھ ایک انتظار کی ضرورت ہوتی ہے جو تمہارے اندر نہیں ہے۔ صبر ایک تکلیف دہ مرحلہ ضرور ہوتا ہے مگر اس کے نتائج میٹھے پھلوں کی طرح ہوتے ہیں۔ اپنے خوابوں کی تعبیر کیلئے اس طرح صبر کے ساتھ انتظار کرو جس طرح تم نے آج اپنے والدین کے خیریت سے پہنچ جانے کا کیا ہے۔ آج تم چاہتے ہوئے بھی اپنے منہ سے اُف نا کر سکے کہ معاملہ والدین کا تھا جن کو نا چھوڑا جا سکتا تھا اور نا کچھ بولا جا سکتا تھا۔ آج اگر تُم نے انتظار کیا ہے تو اپنی مراد بھی تو پائی ہے۔
آج پہلی بار تھا کہ خلیل سر جھکائے اپنے والدین کی باتیں اس توجہ سے سُن رہا تھا۔ اندر سے اُسکا دل اپنی اُن تمام ناکام کوششوں کیلئے دھاڑیں مار کر رو رہا تھا جن کے نتائج کا انتظار کیئے بغیر اپنی لااُبالی طبیعت کے ہاتھوں مجبور وہ ایک کو چھوڑ دوسری کے تعاقب میں بھاگتے بھاگتے تھک چکا تھا۔ کاش یہ سب کچھ وہ بہت پہلے سیکھ پاتا کہ خواب حقیقت بنتے دیکھنے کیلئے صبر کرنا سیکھنا پڑتا ہے۔
مشہور سائنسدان تھامس ایڈیسن کہتا ہے زندگانی میں ناکام ہونے والے اکثر لوگ وہ ہیں جنہوں نے اپنی کوششیں اس وقت ترک کیں جب انہیں ادراک ہی نہیں تھا کہ وہ کامیابی کے کس قدر نزدیک جا پہنچے ہیں۔
Many of life's failures are people who did not realize how close they were to success when they gave up." Thomas A. Edison
خوب سلیم صاحب
جواب دیںحذف کریںسر جی، آپ تشریف لائے تو تحریر کی محنت وصول ہوگئی، شکریہ شکریہ۔
جواب دیںحذف کریںتحریر بہت زبردست ہے۔۔
جواب دیںحذف کریںاب تو میں بھی بڑا ہو کر بڑا ادمی بنو گا۔۔
تھامسن ایڈیسن سے کسی نے طنزاً کہا کہ اپ 40 بار اپنے مشن (یعنی بلب کی تیاری) میں ناکام ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تھامسن نے معلوم ہے کیا کہا؟؟
کہنے لگے کہ میں 40 بار ناکام نہیں ہوا، بلکہ میں 40 ایسے طریقے جان گیا ہوں جس سے بلب نہیں بن سکتا۔۔
خیلے خوب
جواب دیںحذف کریںجناب سید آصف جلال صاحب، خوش آمدید، میرے بلاگ پر تشریف آوری اور اس مضمون کی پسندیدگی کا شکریہ۔ علم مؤمن کی گمشدہ میراث ہوتی ہے جہاں سے ملے پا لے۔ آپ نے تھامس ایڈیسن کی ایک اور حکیمانہ بات سے آگاہ کیا اس کیلئے شکریہ قبول کریں۔ راہنمائی کیلئے تشریف لاتے رہا کریں۔
جواب دیںحذف کریںمحترم سعید صاحب، امدنت باعث آبادی ما- خیلی ممنون و تشکرم
جواب دیںحذف کریںبہت عمدہ جناب۔۔۔ ہمیشہ کی طرح نہایت عمدہ اور سبق آموز۔
جواب دیںحذف کریںاس تحریر سے حضرت عمر بن عبدالعزیز
لاجواب۔ ہمیں اسی پوسٹ سے سبق مل گیا۔
جواب دیںحذف کریںانشاء اللہ، ابا اماں کو ہمیں ہوٹل میں بٹھانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ :)
آئی ایم آلسو سوچنگ ناؤ۔۔۔۔۔!
جواب دیںحذف کریںبہت خوب جناب
جواب دیںحذف کریںالسلام علیکم ورحمتہ
جواب دیںحذف کریںبہت خوب تحریر۔ ۔ ۔
خلیل صاحب اور مسٹر تھامس دونوں نے اچھا سبق دیا۔ لگے رہو، لگے رہو، لگے رہو۔ ۔ ۔ ۔
ایک بہت پرانا سنا ہوا شعر ذہن میں آیا۔ لگتے ہاتھ وہ بھی حاضرِ خدمت کر دوں۔ (کمی بیشی پیشگی معافی کے ساتھ)
جواب دیںحذف کریںاک سحر کی آس میں جو تم آخر وقت تک جاگے ہو
سو نہ جانا جاگنے والو، اس کے بعد اُجالے ہیں
ماشااللہ بہت بڑھیا سبق آموز تحریر ہے جانب محترم محترم محمد سیلم صاحب
جواب دیںحذف کریںاللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے
مانی جی، شکریہ، اچھا ہوا آپ کو اس پوسٹ سے سبق مل گیا۔ اب ماں باپ کھلے عام ہوٹلوں میں بٹھا کر نصیحتیں کرتے پھریں اچھا تو نہیں لگتا ناں۔
جواب دیںحذف کریںڈیئر عمیر ملک، یو آلریڈی ھیو بریلینٹ سوچ، دس سٹوری از فار اس ہو آر دوسروں کو نصیحت اینڈ خود میاں فضیحت۔ شکریہ فار یور کمنگ اینڈ تبصرہ کرنگ۔
جواب دیںحذف کریںجناب داکٹر صاحب، تشریف آوری کا شکریہ۔ آپ کا تبصرہ شاید مکمل نہیں شایع ہو سکا۔ ازراہ کرم اپنی پر حکمت باتوں سے مزید نوازیں
جواب دیںحذف کریںجناب فیصل مشتاق صاحب، تشریف آوری کا شکریہ۔ خلیل اور مسٹر تھامس کی باتوں میں آپ کو دانش کا سبق ملا اس کیلئے ممنون ہوں۔،
جواب دیںحذف کریںمحترم جناب اسماعیل اعجاز خیال صاحب، آپ کی تشریف آوری کا شکریہ۔ مضمون پسند کیئے جانے پر ممنون ہوں۔
جواب دیںحذف کریںVery nice sharing! Indeed have a brutal view of life present here, on the basis of our short vision and impatient behavior we prefer to quit rather than wait and watch, another new face of life….
جواب دیںحذف کریںDear Samina Wajeeh, Welcome to my blog....
جواب دیںحذف کریںI do appreciate you liked my article and got the exact moral meanings what I was trying to convey. I hopefully wish you will keep visiting my blog in future as well...
سلامی قبول کیجئے سلیم بھائی ۔ ۔ ۔
جواب دیںحذف کریںجناب نور محمد صاحب، وعلیکم السلام، تشریف آوری کا شکریہ۔
جواب دیںحذف کریںمین گوگل کرنٹس پر بلاگز کا مطالعہ کرتا ہون.
جواب دیںحذف کریںapne shayd read more ka option istemal kia h, islie apke articles wahan puray ni aate or phr blog pr ana parhta he.
wese sahl pasndi se kam lekr nikal jata hu lekin apki tahrir yahan tak le I. jzakallah is piari post k lie.
phone se urdu likhna diqqat talab h.
جناب عطا رفیع صاحب المحترم، بلاگ پر خوش آمدید، اھلا و سھلا یا مرحبا
جواب دیںحذف کریںمجھے خوشی ہوئی کہ آپ میرے بلاگ کے لنک کا پیچھا کرتے ہوئے یہاںتک پہنچے۔ گوگل کی اپنی پالیسی ہوگی جس کے تحت وہ آرٹیکل کا پری ویو چھاپتے ہونگے ورنہ میںنے تو ایسی کوئی سیٹنگ نہیںکی ہوئی۔ تشریف لاتے رہا کریں، آپ سے علم حاصل ہوگا۔
سلیم بھائی بہت سبق آموز تحریر ہے۔ ان شاء اللہ اس سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔
جواب دیںحذف کریںجناب عدنان شاہد صاحب، تشریف آوری اور مضمون کی پسندیدگی کیلئے شکریہ قبول کیجیئے۔
جواب دیںحذف کریںآسلام و علیکم
جواب دیںحذف کریںبہت اچھی تحریر۔۔۔۔۔
لکھتے رہیے بہتوں کا بھلا ھو گا
جناب!
جواب دیںحذف کریںعمدہ ۔ کسی نے کہا تھا کہ انتظار دنیا کا سب سے مشکل کام ہوتا ہے۔
خیر اگلی پوسٹ کا انتظار رہے گا۔