تازہ ترین

Post Top Ad

Your Ad Spot

جمعرات، 2 مئی، 2013

توقعات

یہ دو ایسے نوجوانوں کا قصہ ہے جو مدینہ منورہ سے ترکی سیر سپاٹے کیلئے گئے۔ ان کا مقصد اپنے جیسے دوسرے نوجوانوں کی طرح شراب و شباب کے مزے لینا اور مستیاں کرنا تھیں۔

استنبول پہنچتے ہی ندیدوں کی طرح انہوں نے سب سے پہلے کچھ کھانے پینے کی اشیاء کے علاوہ اپنا مدعا اول شراب کی بوتلیں خریدیں اور ٹیکسی پر بیٹھ کر ہوٹل کی طرف روانہ ہوئے۔ ہوٹل انہوں نے شہر کے مضافات میں جا کر ایسا پسند کیا جہاں انہیں کوئی جاننے پہچاننے والا نا دیکھ سکے۔

کاؤنٹر پر رجسٹریشن کراتے ہوئے کلرک  کو جیسے ہی پتہ چلا یہ دونوں مدینہ شریف سے آئے ہیں تو اس نے عام کمرے کے ریٹ میں ان کو ایک سوئٹ کھلوا کر دیدیا۔ اہل مدینہ چل کر اس کے ہوٹل میں آ گئے ہیں اس کی خوشی دیدنی تھی۔

دونوں کمرے میں پہنچے اور بس بوتلیں کھول کر معدے میں انڈیلنے بیٹھنے بیٹھ گئے۔ ایک تو کم ظرف نکلا کچھ ہی دیر میں نشے سے دھت بے سدھ سو گیا جبکہ دوسرا نیم مدہوش باقی کی بوتلوں کو کل کیلئے چھوڑ کر سو گیا۔ ان کو سوتے کچھ ہی دیر گزری ہوگی کہ کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔

صبح کے ساڑھے چار بجے تھے، ایک نے غنودگی میں اُٹھ کر دروازہ کھولا تو سامنے کاؤنٹر کلرک کھڑا تھا۔ کہنے لگا کہ ہمارے امام مسجد نے یہ جان کر کہ ہوٹل میں مدینہ شریف سے دو آدمی آ کر ٹھہرے ہوئے ہیں۔ اور یہ کہہ کر نماز پڑھانے سے انکار کر دیا ہے کہ وہ ایسی بے ادبی ہرگز نہیں کر سکتا۔ ہم لوگ آپ کا مسجد میں انتظار کر رہے ہیں، آپ جلدی سے تیار ہو کر آ جائیں۔

اس جوان کو یہ بات سن کر حیرت کا شدید جھٹکا لگا، اس نے جلدی سے اپنے دوسرے ساتھی کو جگا کر بتایا کہ صورتحال ایسی ہوگئی ہے۔ کیا تجھے کچھ قرآن شریف یاد ہے؟

دوسرے ساتھی نے کہا ہاں گزارے لائق قرآن شریف تو یاد ہے مگر لوگوں کی امامت کراؤں، ایسا نا سوچا ہے اور نا ہی کراؤں گا۔ دونوں سر جوڑ کر بیٹھ گئے اور لگے سوچنے کہ اس گلے آن پڑی مصیبت سے کیسے جان چھڑائیں۔

اس اثناء میں ایک بار پھر دورازہ کھٹکا؛ کاؤنٹر کلرک کہہ رہا تھا بھائیو جلدی کرو کرو ہم لوگ مسجد میں آپ کے منتظر ہیں، کہیں نماز میں دیر نا ہو جائے۔

ایک کے بعد دوسرے نے بھاگ کر غسل کیا، جلدی سے تیار ہو کر نیچے مسجد پہنچے، کیا دیکھتے ہیں کہ مسجد نمازیوں سے بھری ہوئی ہے۔ ایسا لگتا تھا نماز فجر کیلئے نہیں لوگ مدینہ شریف کے شہزادوں کی اقتداء میں جمعہ کی نماز کیلئے اھتمام سے بیٹھے ہوں۔

ایک جوان کہتا ہے، میں مصلے پر چڑھا، اللہ اکبر کہہ کر لڑکھڑاتی زبان سے الحَمْدُ للهِ رَبِّ العَالَمِين پڑھا۔ نمازیوں میں سے کسی کی اس تصور سے کہ مدینے کا مکیں، دیار حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے آیا ہوا اور مسجد رسول کا ہمسایہ انہیں نماز پڑھا رہا ہے کی سسکاری نکل گئی۔ پھر کیا تھا کئیوں کے ضبط کے بندھن ٹوٹے۔ کہتا ہے نمازیوں کے رونے سے میری ندامت کیا بڑھی کہ میں بھی رو پڑا۔ سورۃ الفاتحہ کے بعد میں نے پڑھی تو محض سورۃ الاخلاص ہی، مگر اپنے پورے اخلاص کے ساتھ۔

نماز ختم ہوئی، نمازی میرے ساتھ مصافحہ کرنے کیلئے امڈ پڑے اور کئی ایک تو فرط محبت سے مجھے گلے بھی لگا رہے تھے۔ میں سر جھکائے کھڑا اپنا محاسبہ کر رہا تھا۔ اللہ نے مجھ پر اپنا کرم کیا اور یہ حادثہ میری ہدایت کا سبب بن گیا۔

(آپ کیلئے منقول اور مترجم  کیا گیا)

درج ذیل ویڈیوز ایک تبصرے کے بعد شامل کیئے گئے



(1)



(2)



(3)



(4)



(5)



(6)



(7)

25 تبصرے:

  1. اللہ جب ہدایت دیتا ہے تو بس ایک بہانہ ہی چاھیے ہوتا ہے اور وہ اللہ پاک ہی کی طرف سے میسر ہو تا ہے ۔۔اللہ ہمیں ہداہت والوں میں شامل رکھے۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. اللہ اکبر۔ ۔ ۔ وہ چاہے جسے نواز دے۔ ۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. جزاک اللہ بہت ہی دل سوز اور وجد ؎ فریں‌واقعہ ہے۔
    خوش رہیں‌
    شازیہ ناروے

    جواب دیںحذف کریں
  4. سلیم بھائی! آپ نے کیا دل کو چھوہ لینے والا ایک ایمان افروز واقعہ بیان کیا ہے۔ خدا جب چاہے ہدایت دے دے۔

    جواب دیںحذف کریں
  5. ما شاء اللہ بہت خوب ایمان کو تازہ کرنے والا واقعہ ہے اللہ ہم سب کو ہدایت دے

    جواب دیںحذف کریں
  6. ویسے سچے سعودی ھوتے تو ایٹ دا سپاٹ مصافحہ لیتے لوگوں کی کلاس لیتے کہ ھذا حرام ۔ ھذا شرک۔ وغیرہ۔ اور یہ تم لوگوں میں سے رونے کی آوازیں نکال کر کون باقی لوگوں کی نماز خراب کر رھا تھا۔ ایدھر لیاویں نا میرا عگال، اینہاں نو پچھاں میں۔ وغیرہ وغیرہ۔

    ان لوگوں کو ہمیشہ سے پتہ ھوتا ھے کہ عجمی مسلمان ان کو ولی اللہ مانتے ھیں۔ اس لیے ان کے سدھرنے والی بات پر یقین نہیں آتا۔ لیکن چلو آپ کہتے ھیں تو مان لیتا ہوں۔

    جواب دیںحذف کریں
  7. ہم نماز کے لئیے یا کسی اور نیکی کے لئیے اللہ کی ہدایت کے منتظر کیوں رہتے ہیں؟ جبکہ کھانا کھانے کے لئیے، سیر سپاٹے کرنے کے لئیے، شوپنگ کرنے کے لئیے، میل ملاپ تقریبات کرنے کے لئیے، یا اس ہی قبیل کی اور عیاشیاں کرنے کے لئیے ہمیں اللہ کی ہدایت کی ضرورت کیوں نہیں پڑتی؟ یہ سب بغیر ہدایت کے ہی کر لیتے ہیں اور نماز وغیرہ کے لئیے اللہ کی ہدایت کا انتظار کرتے ہیں۔

    میں آپ کی تحریر ہمیشہ اشتیاق سے پڑھتا ہوں، لیکن کچھہ عرصے سے محسوس کر رہا ہوں کے آپکی تحریروں میں فضائل اعمال کی طرح موضوع قصے کہانیاں کی رجحان کچھہ بڑھتا جارہا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  8. ایمان افروز واقعہ۔ اللہ ہمیں ہدایت یافتہ گروہ میں رکھے امین

    جواب دیںحذف کریں
  9. بہن جی خوش آمدید۔ اللہ پاک ہمیں ہدایت والوں میں شامل رکھے آمین۔

    جواب دیںحذف کریں
  10. پیارے نور محمد، شکریہ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت لطیف اور کریم ہیں۔

    جواب دیںحذف کریں
  11. محترمہ شازیہ - ناروے۔ میرے بلاگ پر خوش آمدید۔ مضمون پسند کرنے کا شکریہ۔ تشریف لاتی رہا کریں۔

    جواب دیںحذف کریں
  12. جاوید بھائی، شکریہ شکریہ۔ جی ہاں‌ہدایت اللہ کی طرف سے ہی ہے اور جب عطا ہو جائے۔ تبصرہ کیلئے شکریہ قبول فرمائیں

    جواب دیںحذف کریں
  13. جناب ایم اے راجپوت صاحب؛ آمدنت باعث آبادی ما، تبصرہ کیلئے شکریہ قبول کریں

    جواب دیںحذف کریں
  14. کاشف المحترم؛ خوش آمدید۔ آپ نے مزے کی باتیں‌کی ہیں۔ مصافحہ کب سے حرام یا شرک ہوگیا ہے۔ بات رونے کی نہیں کیفیات کی ہے۔ سعود بن شریم کی وہ والی تلاوت شاید آپ کی سماعت سے نہیں‌گزری جو ان کی حرم میں‌تعینیاتی کے پہلے دن کی ہے۔ منظر (کہاں‌میں‌اور کہاں‌یہ مقام اللہ اللہ) والا بنتا تھا کہ الحمد شریف کئی کوششوں کے بعد پڑھ سکے۔
    ہاں عربی یہ ضرور جانتے ہیں کہ ان کو ولی اللہ مانا جاتا ہے۔ ترکی جیسا تصوف میں ڈوبا ملک تو ویسے بھی مدینہ کی خاک پر مر مٹے یہ تو جیتے جاگتے دو بندوں‌کا قصہ ہے۔
    بہت پہلے (1995)کی بات ایک بار میں‌اور میرا عربی باس گوانزو فیئر میں‌ایک فائیو سٹار ہوٹل میں‌ٹھہرے ہوئے تھے کہ فیئر میں‌ان کا دوست ملا اور بتایا کہ ہم جس ہوٹل میں‌ہیں وہاں‌ اکثریت ایشیا کے لوگوں کی ہے اور باجماعت نماز ہوتی ہے۔ ہم نے بھی چیک آؤٹ ہوکر ادھر جانا پسند کیا۔ وہاں‌لوگوں‌کو پتہ چلا کہ ایک عربی بھی آیا ہوا ہے، بس عربی کے پیچھے نماز پڑھنے کے چکروں‌میں‌لوگوں کا ایسا ھجوم لگا کہ مت پوچھیئے۔

    جواب دیںحذف کریں
  15. محترم فکر پاکستان، مجھے یہ جان کر کہ آپ میرے مضامین بہت اشتیاق سے پڑھتے ہیں بڑا فخر محسوس ہو رہا ہے۔ شکریہ۔ غیر مستند یا صوفیانہ مذہبی قصہ گوئی کا تو میں‌بھی قائل نہیں‌ہوں مگر اتنا ضرور ہے کہ وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَىٰ تَنفَعُ الْمُؤْمِنِينَ - البتہ نصیحت کرتے رہو، کیونکہ نصیحت ایمان لانے والوں کے لیے نافع ہے)-
    جیسے گھوڑا چل تو رہا ہوتا ہے مگر ہلکی سی چپت ایک مہمیز کا کام کر جاتی ہے، اگ جل تو رہی ہوتی ہے مگر ایک پھونک ذرا زیادہ بھڑکانے کا کام کرجاتی ہے اسی طرح اس قسم کے واقعات کبھی خوف اور کبھی طمع دلا کر بندے کو ٹھیک چلتے رہنے کا سبب بنتے ہیں۔
    کچھ کام انسانوں اور حیوانوں کی جبلت اور خصائل میں شامل ہوتے ہیں ان کیلئے کسی ہدایت (Guidance) کی ضرورت نہیں ہوتی جیسے ارتقاء اور نسل و تناسل ہے۔ بقاء اور کھانے پینے کیلئے کوشش اور ہجرت کیلئے بھی کسی ہدایت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ پھر جب وسائل ہوں تو قدرت سے لطف اندوزی بھی طبیعت میں شامل ہوجاتی ہے۔
    کائنات میں خیر و شر کی قوتوں کی موجودگی میں اگر خیر پر مشقت اور شر پر لطف نظر آئے تو پھر خیر کے مالک سے راہنمائی اور شر کی قوتوں سے اس کی پناہ مانگی جانا ضروری ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم خواہ خیر کی راہ پر ہی کاربند کیوں نا ہوں سارا دن یہی دعا ہی مانگتے ہیں کہ (پروردگار! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں ا ور تجھی سے مدد چاہتے ہیں ۔ ہمیں سیدھے راستہ کی ہدایت فرماتا رہ)۔
    نبوت نے لوگوں کو اچھے کاموں کی تلقین کی اور اللہ کا پیغام پورے صدق دل سے پہنچا دیا۔ کوئی ان اچھے کاموں پر عمل بھی کرے یہ ان کیلئے پابندی نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ سرکار صلی اللہ علیہ کی بعض لوگوں سے محبت کی بناء پر ان کا اسلام لانا آپکی شدید خواہش تھا مگر قرآن کے ذریعے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس طرح تشفی کی گئی (اے نبیؐ، تم جسے چاہو اسے ہدایت نہیں دے سکتے، مگر اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو ہدایت قبول کرنے والے ہیں -56 - سورة القصص)۔
    امید ہے میں نے آپ کے سوال کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  16. جناب مانی صاحب، آمین ثم آمین اللہ پاک ہمیں ہدایت یافتہ لوگوں میں رکھیں

    جواب دیںحذف کریں
  17. میرا مطالعہ اور تجربہ بتاتا ہے کہ اگر انسان میں نیکی کی رمق باقی ہو ۔ اس کے اندر کہیں اللہ کا خوف چھُپا بیٹھا ہو جس پر دنیائے ابلیس نے مادی انبار چڑھا دیئے ہوں تو نیکی کی طرف قدم اُٹھنے پر اللہ اسے نیکی کی طرف راغب کرتا ہے ۔ پھر بھی انسان پر ہوتا ہے کہ اللہ کی مدد کو پہچان لے یا ابلیس کے پیچھے لگا رہے
    اللہ مجھے اور آپ کو بھی ابلیس کے ڈالے وسوسوں سے بچائے

    جواب دیںحذف کریں
  18. محبوب بھوپال3 مئی، 2013 کو 10:58 AM

    اسلام و علیکم

    نیکی کی باتیں اسلام کی باتیں ھدایت کی باتیں بڑی لکھی اور پڑھی جاتی ھیں لیکن میں حیران ھوں پورے تبصروں میں کسی صاحب نے آسلام و علیکم نہیں لکھا ۔ ۔ ۔ ھے نا کھلا تضاد بھائیو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔؟
    آللہ تعالی ان عربیوں کی طرح ھمیں بھی ھدایت دے آمین

    جواب دیںحذف کریں
  19. محترم جناب افتخار اجمل بھوپال صاحب ؛ خوش امدید۔ جی ہاں آپ نے سچ فرمایا۔ انسان بالکل بغاوت پر آمادہ نا ہو چکا ہو اور اس کے اندر ابھی خیر کی رمق باقی ہو تو سیدھے راستے پر آ ہی جاتا ہے۔
    تاہم اللہ تبارک و تعالیٰ مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ نکالنے پر قادر ہیں۔ برسوں کی سڑی زمین سے نازک پھول اگا دیتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے خشک اور مردہ بیجوں سے سرسبز و توانا فلک بوس درخت پیدا کر دیتے ہیں اور پھر انہی درختوں سے خشک بیج پیدا کرتے ہیں۔ ہدایت بھی شاید کچھ ایسی ہی چیز ہے گمراہ سے گمراہ راہ راست پر آجائے اور رات کو مسلمان سونے والا صبح کفر کی حالت میں اٹھے۔
    اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں راہ راست پر رکھیں۔ آمین یا رب العالمین

    جواب دیںحذف کریں
  20. جناب محبوب بھوپال صاحب، و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ کیا حال ہیں؟ آپ بہت دنوں کے بعد تشریف لائے۔ اپ کے سارے تبصروں کیلئے آپ کا بیحد ممنون ہوں۔ شکریہ شکریہ۔

    جواب دیںحذف کریں
  21. منصورالحق منصور3 مئی، 2013 کو 9:46 PM

    جناب فکر پاکستان صاحب اگر دین سیکھنے کی طرف بھی توجہ دی ہوتی تو شاید آپ کو عقل کی ٹانگ اڑانے کی ضرورت نہ پڑتی مگر کیا کریں ہم تو پیدا ہی مسلمان ہوتے ہیں اس لیے ہمیں ضرورت ہی نہیں کہ ہم کچھ دین بھی سیکھ لیں۔

    جواب دیںحذف کریں
  22. بہت اعلی ۔۔۔۔
    کیسے کیسے لوگ کیسی کیسی زندگی گزار رہے ہیں۔۔۔۔۔۔کہ پڑھ کر ، دیکھ کر اور سوچ کر بندہ اپنے آپ میں ہی گم ہو جائے۔۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  23. منصور الحق منصور صاحب۔ یہ جان کر خوشی ہوئی کے آپکو دین پر مکمل دسترس حاصل ہے، امید ہے آپ ہم جیسے کم علموں کی رہنمائی فرماتے رہیں گے، اور فضائل اعمال جیسی کتابوں میں جن میں جھوٹے قصے کہانیاں بھر دی گئی ہیں انکی طرف بھی نشاندہی فرماتے رہیں گے۔

    جواب دیںحذف کریں
  24. فضائل اعمال احادیث کی کتاب ہے ،جسکی تالیف شیخ الحدیث زکریا رحمہ اللہ تعالیٰ نے کی ہے۔ فضائل اعمال میں مختلف اعمال کا شوق دلانے کیلئے احادیث جمع کی گئی ہیں۔ ہاں بعض اوقات احادیث کی ضمن میں کوئی واقعہ بیان کیا گیا ہو تو الگ بات ہے۔رہی یہ بات کہ وہ واقعات جھوٹی ہیں یا سچی ،تو میرے خیال میں مولانا زکریا صاحب نے کم از کم آپکے ذمہ یہ کام نہیں لگایا کہ ان واقعات کی تصدیق یا تکذیب کرئے۔

    ہاں واقعہ سے جو سبق دینا ہوتا ہے ،اسی کو سامنے رکھ کر واقعہ بیان کیا جاتا ہے۔ لیکن ہمارئے لوگوں کا مسئلہ ہی کچھ الٹا ہوتا ہے۔اصل مقصد کو چھوڑ کر ہم بال کی کھال اُتارنا شروع کردیتے ہیں۔

    اتفاق میں برکت ہے ( لکڑہارے والی) ایک مشہور کہانی ہے۔ لیکن کسی نے بھی استاد کو قسم دئے کر نہیں پوچھا کہ یہ لکڑہارہ کہاں کا رہنے والا تھا۔بس سب اس سے حاصل ہونے والے سبق کو ہی مقصد سمجھتے ہیں۔

    مجھے یقین ہے کہ میری بات بین بجانے والی ہوگی۔

    جواب دیںحذف کریں
  25. Mohtaram Saleem Sahab, App ka jawab aik aalim ka jawab lagta hai. Zaban-o-bayan per app ko jo uboor hasil hai wo lajawab hai. ALLAH App ko is achay kaam ko mazeed agay berhanay ki taufeeq ata farmaye (Ameen).

    جواب دیںحذف کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Post Top Ad

Your Ad Spot

میرے بارے میں