تازہ ترین

Post Top Ad

Your Ad Spot

جمعہ، 9 مارچ، 2012

کچھ ویڈیو کلپس آپ کی نظر

۱: مذہبی رواداری؛ نقل کفر کفر نا باشد ؛ سٹار اکیڈمی عرب دنیا کا مشہور ریئیلٹی شو ہے جو کہ ۲۰۰۳ سے لبنان کے ٹی وی چینل ایل بی سی سے ہر سال پیش کیا جاتا ہے۔  سٹار اکیڈمی کا آٹھواں سیزن یکم اپریل 2011 سے پندرہ جولائی  2011 تک پیش کیا گیا جس میں ایک سعودی باشندے محمد عبداللہ سمیت  ۲۰ لوگ شامل رہے ، کل ملا کر  گیارہ مرد اور  نو لڑکیاں  تھیں۔ سیزن کی افتتاحی تقریب  ایک پر شکوہ محفل تھی جس کو حاضرین اور ناظرین نے جہاں خوب سراہا  وہیں  درد دل رکھنے والے مسلمانوں  کیلئے شدید صدمے اور غم و غصے کا باعث بھی بنی۔ تقریب میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان مذہبی رواداری کا درس دینے کیلئے  شامی مسلمان  گلوکار محمد دقدوق نے اسلامی شعار اذان کو  اور مصر کی عیسائی  گلوکارہ نسمہ محجوب نے عیسائی دعائیۃ کلمات کو اوپیرائی انداز میں ایک  ساتھ  مل کر اور گا کر پیش کیا ۔    سٹیج کے پیچھے سکرین پر صلیب عیسائیوں کی علامت اور ہلال مسلمانوں کی علامت کے طور  بھائی چارے کے اظہار کیلئے اکھٹا  لہرایا جاتا رہا۔


یہ حرکت قرآن مجید کی اس آیت کریمہ  (وَلَن تَرْضَىٰ عَنكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَىٰ حَتَّىٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ) کے مصداق تھی کہ غیر مسلم مذہبی رواداری پر  نہیں  بلکہ تمہیں اپنے راستے پر لگانے سے کم پر  ہرگز راضی نہیں ہونگے کی عملی تصویر تھی۔ اس قبیح حرکت پر اکثر علماء کرام نے اپنے  غم و غصے کا شدید اظہار کیا  اور اسے  استھزاء  بالدین اور کفریہ عمل قرار دیا۔


اللهم لا تؤاخذنا بما فعل السفهاء منا 



۲: انور مسعود پاکستان کے معروف شاعر اور  مزاحیہ ادب کا ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔ انکی باتیں اوپر اوپر سے لی جائیں تو بہت مزا دیتی ہیں مگر ان کے اندر جو درد چھپا ہوتا ہے وہ غور طلب ہوتا ہے۔ خود انور مسعود کہتے ہیں کہ میری شاعری کیلئے ایک احتیاطی تدبیر یہ بھی ہے  کہ اس پر غور کرنے سے پرہیز کیا جائے۔ زیر نظر کلپ انکی زندہ جاوید پنجابی نظم امبڑی پر مشتمل ہے جسے دیکھنے کیلئے دل کو تھامنا اور آنسووں کو سنبھالنا پڑتا ہے۔



۳:  اولاد صالحہ کی خواہش تو ہر والدین رکھتا ہے مگر عملی طور کوشش نہیں کی جاتی۔ بچپن میں ایک اچھا ماحول بچے کی آئندہ زندگی کے مسارات متعیین کرنے کیلئے اہم کردار ہوتے ہیں۔ یہ بچہ یقینا خوش قسمت والدین کا سرمایہ حیات ہے۔ بہت ہی پیاری تلاوت کلام پاک ملاحظہ فرمائیے۔



۴: بیٹ بوکس ایک اچھا خاصا فن ہے جس میں کوئی بھی فنکار اپنے منہ سے مختلف موسیقی کے آلات  کی آواز نکال کر سماں باندھ دیتا ہے۔ کئی فنکار تو ایک ہی وقت میں منہ سے پورا آرکسٹرا ہی بجا ڈالتے ہیں، حتیٰ کہ سننے والے شک میں پڑ جاتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہوا۔ تاہم  زیر نظر ویڈیو بیٹ بکس کی ایک بری مثال ہے جسے دیکھ کر آپ لطف اندوز   ہونگے۔



۵: زیر نظر ویڈیو میں نے اپنے موبائل سے یہاں شانتو میں ایک فوڈ فیسٹیول کے دوران بنائی۔ ان کباب بیچنے والوں نے تو گویا ہمیں وطن سے دور کسی میلے کا مزا دیدیا۔ گاہک انکے کباب کے ساتھ ساتھ ان کی اداوں سے بھی لطف اندوز  ہو رہے تھے، انہوں نے ناچتے ناچتے ہی ہمیں اتنی گرمجوشی سے سلام بھی کہا اور حال احوال بھی پوچھ لیا۔ بد مزگی اس وقت پیدا ہوئی جب دوسرے دن ہمارے چند عربی دوست  میرے موبائل پر اس ویڈیو کو دیکھ کر اور ہماری شہ پر اپنے ساتھ ایک ترجمان کو لیجا کر ان کے سٹال پر کھانے کیلئے پہنچ گئے۔ کیشیئر کو پیسے تھما کر سامنے میزوں پر جا کر بیٹھ گئے کہ کباب آئیں گے تو کھائیں گے مگر  کباب فروشوں کی ایک  ساتھی (ویڈیو میں جس نے نیلی کڑھائی والا کرتا پہن رکھا ہے) نے باہر ہمارے پاس آ کر انہیں سلام کیا اور پوچھا کہ کیا وہ مسلمان ہیں؟ انہوں نے کہا جی الحمد للہ مسلمان ہیں۔ تو اس نے پیسے  واپس لوٹاتے ہوئے کہا کہ یہ لو اور بھاگ جاو، ہمارا گوشت حلال نہیں ہے۔



۶: پیسہ بھی عجیب چیز ہے۔ جن کے پاس ہے انکو  سمجھ نہیں کیسے خرچ کریں اور جن کے پاس نہیں ہے وہ اسکی شکل کو دیکھنے کیلئے محتاج ہیں۔ میرے ایک دوست نے خود اپنی آنکھوں سے ایک ایسی عورت کو سڑک کے کنارے روتے اور بین ڈالتے دیکھا جس کی مرغی ٹرکے کے نیچے آ کر مر گئی تھی۔ زیر نظر کلپ میں ایک عرب کو دیکھیئے جسے اپنے پیسے خرچ کرنے کا یہ بھونڈا طریقہ نظر آیا، حتی کہ اس نے کچھ پیسوں کو عملی طور پر آگ لگا کر اپنے دل کی بھڑاس نکالی۔ اللہ مستعان۔


17 تبصرے:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Post Top Ad

Your Ad Spot

میرے بارے میں