جیسے ہی ایک بچہ حجام کی دکان میں داخل ہوا
تو حجام نے گرمجوشی کے ساتھ اپنے گاہک کو بتانا شروع کیا کہ اسے دیکھو، یہ دنیا کا احمق ترین بچہ ہے، تم انتظار کرو میں ابھی تمہیں ثابت کر کے دکھاتا ہوں۔
حجام نے اپنی ایک ہتھیلی پر ایک درہم کا سکہ اور اپنی دوسری ہتھیلی پر ۲۵ قرش (درہم کا ایک چوتھائی) کا سکہ رکھ کر بچے کو آواز دیکر بلایا اور اپنے دونوں ہاتھ بچے کے سامنے کر دیئے تاکہ بچہ جو بھی سکہ لینا چاہے اُٹھا لے۔
بچے نے حجام کی ہتھیلی سے ۲۵ قرش کا سکہ اُٹھایا اور چلا گیا۔
حجام نے اپنے گاہک سے دوبارہ مخاطب ہوتے ہوئے کہا، دیکھا ناں آپ نے! یہ بچہ ہر بار ایسا ہی کرتا ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ ساری زندگی کچھ سیکھ پائے گا۔
گاہک اپنی حجامت سے فارغ ہو کر باہر نکلا تو اس بچے کو ایک دکان سے آئسکریم لیکر کھاتے ہوئے پایا۔
اُس نے بچے سے پوچھا تم کیوں ہربار اس چونی (۲۵ قرش) کو لینا پسند کرتے ہو، درہم کو کیوں نہیں؟
بچے نے کہا: میں جانتا ہوں کہ جس دن میں نے درہم کا سکہ لے لیا اس دن یہ کھیل ختم ہوجائے گا۔
جی ہاں، احمق شاید وہی ہوتا ہے جو لوگوں کو احمق جان کر ان کے ساتھ معاملات کرتا ہے۔
[...] بقیہ پڑھنے کیلئے یہاں کلک کیجیئے Share this:EmailFacebookTwitterDiggStumbleUponPrintLinkedInLike this:LikeBe the first to like this post. [...]
جواب دیںحذف کریںدل لگتی بات کی ہے جی
جواب دیںحذف کریںدوسرون کو احمق سمجھنے والے اپ احمق ھوتے ھے
جواب دیںحذف کریںسارئ اس پر لکھنا مشكل ھے
گُڈ ۔۔۔
جواب دیںحذف کریںبہت خوب۔۔۔
جواب دیںحذف کریںالسلام علیکم
جواب دیںحذف کریںاچھی کہانی ہے سلیم بھائ- یہ آیت یاد آ گئ-
أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَـٰكِن لَّا يَعْلَمُونَ
خبردار وہی بے وقوف ہیں لیکن نہیں جانتے
بہتر وہی ھے جو دوسروں کو بہتر سمجھتا ہے، انسان کوئی انسان بھی کسی سے کمتر نہیں سب برابر اللہ کی مخلوق ہیں
جواب دیںحذف کریںزبردست جناب
جواب دیںحذف کریںAssalam Alikom Saleem Bhai
جواب دیںحذف کریںBhot Khob Masa Allah
ابو عبداللہ ، یا مرحبا، اھلا و سھلا
جواب دیںحذف کریںجناب ملک نواز صاحب، خوش آمدید، آپ نے ٹھیک کہا، دوسروںکو احمق اور اپنے آپ کو عقلمند کہنے والے خود احمق ہوتے ہیں
جواب دیںحذف کریںجناب محترم، میرے بلاگ پر خوش آمدید، اللہ آپ کو خوش رکھے
جواب دیںحذف کریںجناب ڈاکٹر جواد احمد خان صاحب، وقت نکال کر بلاگ پر تشریف لانے کا شکریہ۔
جواب دیںحذف کریںعزیزتی الغالیہ ام عروبہ صاحبہ، وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ ، بلاگ پر خوش آمدید، کہانی (عربی زبان سے ماخوذ) کو پسند کرنے کا بہت بہت شکریہ۔ آپ نے بہت اعلیٰ مثال دی ہے۔
جواب دیںحذف کریںپیارے گجر کوماف صاحب، تشریف آوری اور اپنے جذبات کے اظہار کرنے کا شکریہ
جواب دیںحذف کریںجناب سلطان محمد صاحب، خوش آمدید
جواب دیںحذف کریںبرادرم جناب محمد اسلم انوری صاحب، و علیکم السلام و رحمۃ اللہ ، پسندیدگی اور تبصرہ کیلئے شکریہ قبول فرمائیں۔
جواب دیںحذف کریںالسلام علیکم بھائی محمد سلیم۔
جواب دیںحذف کریںاحمق کون؟ اچھی اوربرمحل حکایت ہے،کیونکہ آج کل ہر دوسرا فرد احمق بنانے کی فکر میںہے باالخصوص پاکستان کے حکمران ،وکلا اور سیاست دان میںتو کچھ زیادہ ہی جوش ہے ،کچھ کا انجام بد بھی قوم کے سامنے ہے مثلآ محترم ڈاکٹر ظہیرالدین بابر اعوان صاحب وغیرہ اور کچھ مفادات کے لئے قوم کو احمق ثابت کرنے کی دوڑ میں تیزی سے بھاگ رہے ہیںمثلآ محترم چودھری اعتزاز احسن صاحب وغیرہ وغیرہ ۔
السلام علیکم
جواب دیںحذف کریںآپ کے اس قدر خوبصورت اور عزت سے بھر پور انداز تخاطب پر ہم آپکے بہت مشکور ہیں- علامہ اقبالؒ نے کہا تھا:
مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر
اور ہم کہتے ہیں:
سمع زن پر ہے کلام نرم و نازک پر اثر
جناب محترم عبدالجبار ناصر صاحب، خوش آمدید۔ میرے بلاگ پر تشریف لانا میرے لیئے باعثعزت افزائی ہے۔ اللہ آپکو سلامت رکھے۔
جواب دیںحذف کریںجی ہاںاآپ نے بر محل تجزیہ کیا ہے۔
بہت دلچسپ
جواب دیںحذف کریںمحترمہ ارتقاء حیات، تشریف آوری کا بہت شکریہ۔
جواب دیںحذف کریںآپ نے تو کم و بیش سارے ہی مضامین پڑھ ڈالے، مین شکر گزار ہوں
اتنی بری کہانی کہ میں شییر بٹن پر کلک کرنے سے رک نا پایا۔
جواب دیںحذف کریںمحترم عاقل محمود صاحب، تزریف آوری کیلئے شکریہ
جواب دیںحذف کریںاتنا برا تبصرہ کہ میں ہینسی نا روک سکا، شکریہ، تشریف لاتے رہا کریں
واقعی حقیقت سے بھرپور کہانی ہے۔
جواب دیںحذف کریں